Posts

جہاں پرواہ نہیں اس راہ کی چاہ کبھی مت کریں

Image
کبھی کبھی ہم ایسی جگہ بھٹک رہے ہوتے ہیں  جہاں ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا یہ جاننے کے باوجود کہیں نہ کہیں انتظار ہوتا ہے کہ شاید ہماری کوئی کوشش تھوڑی تو جگہ بنا دے ہمیں کوئی مقام دلا دے یہ محض ایک فریب ہوتا ہے اور تکلیف بھی  اپنی جگہ بنانے کی خواہش میں خود کو ہر دن تکلیف نہیں دیتے نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے جانا ہوتا ہے مانا کہ خواہش ہے کوشش بھی کی  مگر خود کو تکلیف تو مت دیں  کوئی اور ایسی جگہ موجود ہے  جہاں آپ کو قبول بھی کیا جائے گا اور آپ کو عزت بھی دی جائے  ایک بار جب اپنی اصل جگہ تلاش کر لی  تو دوبارہ کبھی کسی اور جگہ کی خواہش نہیں رہے گی حقیقت سےمنہ نہیں موڑ سکتے  اصل سے فرار نہیں ہے  بس پہلا قدم اٹھانا مشکل ہوتا ہے بھاگنا چھوڑ دیں اور اپنا اصل مقام پہچانیں  🖋️ سدرہ اشفاق

صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا ضروری ہوتا ہے

Image
زندگی میں بہت دفعہ ایسا مقام آتا ہے  جب اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس کو زندگی میں رکھنا ہے اور کس کو دور کرنا ہے کیا اہم ہے اور کیا محض وہم ہے کیا خوشی دیتا ہے اور کیا پریشان کرتا ہے کہاں سے انرجی ملتی ہے اور کہاں ضائع ہو رہی ہے کیا چیز آپ کو کامیابی کی طرف لے کر جا رہی اور کیا ناکامی کی طرف ان سب میں کبھی نہ کبھی فیصلہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے   ایک رخ کا تعین کرنا ہوتا ہے اگر نہیں کیا تو آگے بڑھنا ناممکن ہے ہمیشہ ایک ہی دائرے میں گھومتے رہیں گے  کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے  تو کوشش کریں صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کر کے اپنے لیے آسانی کریں 🖋️ سدرہ اشفاق

عارضی سہاروں میں مستقل پناہ تلاش مت کریں

Image
ہر انسان مضبوط بننے کے لیے سہارے تلاش کرتا ہے کوئی سوچتا ہے فلاں شخص مل جائے تو ہمت آ جائے گی  کبھی سوچتا ہے فلاں چیز مل جائے تو طاقت بڑھ جائے گی  جبکہ اصل ہمت اور طاقت تو خود سے آتی ہے  ہمارے اندر موجود ہوتی ہے جسے تلاش کرنا ہوتا ہے باہر سے ملنے والی ہمت عارضی ہوتی ہے  جس بھی انسان یا چیز سے ملے اس کے دور ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے  زندگی کے اندھیرے جو بھی ہوں کوئی تکلیف ، کوئی یاد ، کوئی بات یا کوئی ڈر ہمت سے سامنا کریں اور خود کو اس سے باہر نکالیں سہاروں کی تلاش میں رہیں گے  تو کبھی خود کا مضبوط نہیں بنا پائیں گے 🖋️ سدرہ اشفاق  

دوستی

Image
انسان وہی طور طریقے اور طرز زندگی اختیار کرتا ہے، جو اس کے ساتھی کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کے دین و اخلاق کے معاملے میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس بات میں خوب غورو فکر کرے کہ وہ کس کو اپنا دوست بنا رہا ہے۔  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "آدمی اپنے دوست کے دین پر ہو تا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے"۔   اگر کسی شخص کا دینی و اخلاقی پہلو اسے پسند آئے، اسے وہ دوست رکھے اور اگر پسند نہ آئے تو اس سے دور رہے۔ طبیعتیں نقال ہوتی ہیں اور صحبت اصلاح حال یا اسے بگاڑنے میں اثر انداز ہوتی ہے۔  امام غزالی فرماتے ہیں: لالچی آدمی کے ساتھ بیٹھنا اور اس سے میل جول رکھنا حرص کو ابھارتا ہے اورزاہد شخص کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے دنیا میں زہد پیدا ہوتا ہے؛ کیوں کہ انسانی طبیعتوں کی فطرت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرتی اور اقتدا کرتی ہیں۔ بلکہ انسان کی طبیعت دوسرے انسان کی طبیعت سے ان جانے میں اثر قبول کرتی ہے۔   انسان کو چاہیے کہ وہ اچھے لوگوں کو دوست بنائے کیوں کہ اسی میں بہتری ہے۔

غصہ

Image
غصہ آنا فطری عمل ہے لیکن اُس وقت طریقہ کیا ہونا چاہیے یہ ہمارے ہاتھ میں ہے جب کوئی غلط بات کہے جس سے اس پر غصہ آئے تو کچھ وقت کے لیے اسکا جواب نہ دیں رک جائیں اور سوچیں اس کا جواب میں کل دونگی ایسا کرنے سے ہم لمبی بحث اور جھگڑے سے بچ جاتے ہیں  کیونکہ غصہ ہماری عقل کو ڈھانپ لیتا ہے ، سوچ سمجھ کی صلاحیت کم کر دیتا ہے اور جذبات میں ہم کچھ بھی الٹا سیدھا بول جاتے ہیں جس کا بعد میں لمبے عرصے تک پچھتاوا رہتا ہے اسی طرح جب دوسرے غصے میں ہوں تو بھی خاموش ہو جائیں اور جب وہ غصے کی کیفیت سے باہر آ جائیں تب اپنی بات سمجھائیں تب زیادہ محنت کیے بنا ہی بات سمجھ میں آ جاتی ہے 🖋️ سدرہ اشفاق

نفرت نہیں محبت کیجیے

Image
اللہ کی محبت پانے کے راستے میں نفرت بھرے احساسات ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس رکاوٹ کو گرا کر ہی اللہ کی محبت پا سکتے ہیں۔ ہم دل سے جھکنا سیکھتے ہیں کیونکہ کسی کو معاف کرنے کے لئے دل کو جھکانا پڑتا ہے، ایسے اللہ کے بندوں کے سامنے جھکنا ہمیں اللہ کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔ دل میں مثبت احساس ہوگا تو دل میں نرمی آئے گی، خوش مزاجی اور خوش اخلاقی حاصل ہو گی۔ منفی سوچوں سے بچیں گے اور سکون ،اطمینان اور خوشی نصیب ہوگی۔ 🖋️ سدرہ اشفاق

سوچ کا انداز بدلیے

Image
مسائل تو ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہیں لیکن یہ مسائل ہمارے ہر وقت کے رونے دھونے کا جواز نہیں ہونا چاہیے دوسروں کو ہر وقت اپنے بیچارے ہونے کی کہانیاں سناتے رہیں گے تو وہ ہم سے بات کرنا کم کر دیں گے دور جانے لگے گے ہماری باتوں سے اکتاہٹ کا شکار ہوں گے کیوں کہ وہ جانتے ہیں جب ہم سے بات کریں گے ہمارے پاس گلے شکوے کرنے کی لمبی فہرست موجود ہو گی ہمیں لگتا ہے دوسروں کو ہمیں سمجھنا چاہیے اور ہر وقت ہماری بات سننی چاہیے اس سب میں یہ بھول جاتے ہیں کہ سامنے والا کیا چاہتا ہے ہمارا ہر وقت کا منفی رویہ سننے والے کو بھی متاثر کرتا ہے  ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ کچھ اچھا وقت گزارے کچھ اچھی اچھی باتیں کرئے  اگر ہم ہر اچھی بات چھوڑ کر بس خود کو بیچارہ بنانے میں مصروف رہیں گے تو ایک دن ہمارے پاس کوئی بھی نہیں رہے گا اس لیے خود کو بیچارہ سمجھنا چھوڑ دیں اللہ نے ہر انسان بہت سی مثبت صلاحیتیں رکھی ہیں ان کا استعمال کریں جتنا ممکن ہو خود کو مثبت کاموں میں مصروف رکھیں اس سے شخصیت میں ٹھہراؤ آئے گا ذہن بیکار کی سوچوں میں نہیں الجھے گا دوسروں کو سنانے کے لیے گلے شکوے بھی کم ہوں گے یاد رکھیں دوسرا کوئی ہما...

اچھائی ‏یا ‏برائی

Image
اچھا بننے کی کوشش میں ہو یا کوئی اچھا کام کررہے ہو تو مت دیکھنا کے ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے اچھائی کا ساتھ دینے والے تو بس ایک دو ہی ہوتے ہیں جبکہ برائی میں ہزاروں لوگ ساتھ کھڑے ملیں گے کوئی تمہاری اچھائی کو سراہے یا نہیں تم ہمیشہ اچھا بننے کی ہی کوشش کرو  یہ سفر بہت محنت طلب ہے ڈر کے ہمت مت ہار دینا کبھی گرو گے تو کبھی لڑکھڑاؤ گے مگر دیکھو اس سفر کو ترک مت کرنا  چاہے کوئی بھی ساتھی نہ پاؤ پھر بھی اداس مت ہونا کیونکہ تمہارا ساتھی اللہ ہے جہاں سب برائی میں مشغول ہوں تمہیں اچھائی کی شمع بن کر ان سب کو روشنی دیکھانی یے 🖋️ سدرہ اشفاق

مختلف ‏کو ‏بدلنے ‏کی ‏کوشش

Image
انسان اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ رہ کر خوش ہوتا ہے ان سے بات کر کے خوشی محسوس کرتا ہے لیکن زندگی میں تمام لوگ ہمارے جیسے ہو یا ہماری طرح سوچتے ہوں ایسا ضروی نہیں ہے کچھ لوگ قدرتی طور پر ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں اور کچھ لوگ بلکل مختلف  اس لیے اگر مختلف سوچ رکھنے والے لوگ زندگی میں شامل ہیں تو ان کو زبردستی اپنے جیسا بنانے کی کوشش مت کریں بلکہ وہ جیسے ہیں انہیں ویسے ہی قبول کر لیں  اگر ایسا نہیں کر سکتے اور نا خوش ہیں تو ان کو بدلنے کی بجائے اپنے جیسے لوگ تلاش کریں کیونکہ جب آپ خود دوسروں کے مطابق نہیں بن سکتے تو دوسروں سے بھی اس بات کی توقع رکھنا چھوڑ دیں 🖋️ سدرہ اشفاق

رب ‏کی ‏تلاش

Image
جس کو ہر جگہ تلاش کر رہے ہو وہ تو تمہارے اندر ہی کہیں موجود ہے کبھی کسی سے پوچھتے کیسے ملے کا تو کبھی ڈھونڈنے ہو کہ کہاں ملے گا کہاں در در پر بھٹک رہے ہو تم، اللہ نے تو کہا میں شہہ رگ سے زیادہ قریب ہوں اللہ کو پانا ہے اللہ کی دوستی چاہیے تو اپنی "میں" ختم کردو جھک جاؤ ، عاجزی اپنا لو ، ہر فیصلے کو دل سے قبول کر لو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر کے تو دیکھو اللہ کے رنگ میں رنگ کے تو دیکھو   ہر چیز میں ایسے رہنمائی ملے گی کہ تم بھی حیران رہ جاؤ گے دل سکون سے بھر جائے گا اور کوئی ملال باقی نہیں رہے گا   🖋️ سدرہ اشفاق

اللہ ‏پر ‏بھروسہ

Image
ہم سب زندگی میں کبھی نہ کبھی ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوتے جہاں دنیا کا ہر دروازہ بند نظر آتا ہے بظاہر کوئی سبب نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے ناامید ہونے لگتے ہیں کہ ہمارے حالات نہیں بدل سکتے اس وقت ہماری نظر دنیا کے ظاہری اسباب پہ ہوتی ہے کہ وہ نہیں تو شاید کچھ نہیں جبکہ اسباب پیدا کرنے والا تو اللہ ہے وہ جب چاہے ایسے اسباب بنا دیں کہ ہر انسان حیران رہ جائے یاد کریں حضرت مریم علیہا السلام کا قصہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے کیا وہ ہم سب کے لیے امید کی نئی راہیں نہیں کھول دیتا کہ اللہ نے ان کے لیے کیسے کیسے اسباب بنائے جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس رزق آتا تھا حضرت زکریا علیہ السلام نے پوچھا اے مریم یہ رزق کہا سے آتا ہے اور انکا جواب سن کر دعا کی کہ اللہ ان کو بھی اولاد سے نواز دے یہ نہیں سوچا کہ کیسے ممکن بس نظر میں یہ تھا جو رب مریم کو ایسے رزق دے رہا ہے مجھے بھی اولاد دینے پہ قادر ہے قرآن ہمیں بتا رہا ہے کہ اے انسان ناامید نہ ہو کسی بھی کام کو بظاہر دنیاوی اسباب نہ ہونے کی وجہ سے نامکمن مت کہو رب تو ہمارا بھی وہی ہے جو مریم علیہا السلام کا اور حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا لیکن فرق یہ ہے انہوں ن...

ماضی ‏کو ‏دیکھ ‏کر ‏حال ‏کو ‏مت ‏جانچیں

Image
کسی کو کیا خبر کہ جو ماضی میں غلط تھا حال میں صحیح ہو  یا مستقبل میں کب صیحح راستے پہ آ جائے  اس کا فیصلہ تو موت کے ساتھ ہوتا ہے کون کامیاب ہوا اور کون ناکام لیکن آج بہت سے لوگ دوسروں کے بارے میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے تھوڑا سا بھی نہیں ہچکچاتے  بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں کسی کو جنتی تو کسی کو جہنمی   ماضی کی غلطیوں پہ مذاق بناتے ہیں اگر کوئی صیحح راستے پہ آنے کی کوشش کرے تو پہلا جملہ یہی سننے کو ملتا "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی"   چلیں نو سو چوہے کھا کے ہی سہی مگر زندگی میں خیال تو آیا، کوشش تو کی صیحح راہ کو اپنانے کی کچھ لوگوں کو تو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ساری زندگی گناہوں میں ہی گزار دیتے ہیں جب بھی کوئی ماضی کی غلطیوں کو چھوڑ کر حال اور مستقبل کو سنوارنے کی کوشش میں ہو  تو اس کو کمزور مت کیجئے کیونکہ یہ سفر بہت مشکل ہے ہر وقت خود سے جنگ کرنی پڑتی ہے  نہ ہی ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں کہ کوئی صحیح راہ کو چھوڑ کر واپس پلٹ جائے 🖋️ سدرہ اشفاق

دوسروں ‏کی ‏جاسوسی ‏مت ‏کریں

Image
ہروقت دوسروں کی ٹوہ میں مت لگے رہے کون کیا کر رہا ہے؟ کیوں کر رہا ہے؟ کیسے کر رہا ہے؟ اگے کیا کرنا چاہتا ہے؟   یہ سوالات پوچھنا آپ کا حق نہیں ہے اگر کوئی آپ کو کچھ بتائیں تو سن لے اور اگر نہیں بتانا چاہے تو کریدنا نہیں چاہیے اسلام نے دوسروں کے گھروں میں بھی جھانکنے سے منع کیا ہے تو پھر ہم کیوں دوسروں کی زندگی میں تانک جھانک کرتے رہتے ہیں؟ رسول ﷺ نے فرمایا  لَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا دوسروں کی ٹوہ میں نہ لگو ، دوسروں کی جاسوسی نہ کرو دوسروں کی خیر خواہی چاہتے ہیں تو بے جا تجسس اور تحسس سے ان کو پریشان مت کریں 🖋️ سدرہ اشفاق

خوش ‏کیسے ‏رہا ‏جائے؟

Image
خوش رہنے کی دعا تو عام طور پر سبھی دیتے ہیں  لیکن خوش رہنے کا طریقہ یا خوش رکھنے کا سلیقہ کسی کسی کو آتا ہے مستقبل کے خوف یا ماضی کی تکلیفوں کی وجہ سے انسان حال میں بھی خوش نہیں رہتا تو سب سے پہلے خود کو ہر خوف سے نکال کر خوش رکھنے کا ارادہ کریں اس کے ساتھ اپنے دل میں وسعت پیدا کریں  اچھے کام پہ دوسروں کی تعریف کریں کوئی مدد کریں تو اسکا شکریہ ادا کریں  تنگ دل انسان کبھی خوش نہیں رہتا نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتا ہے  کہیں بھی ہوں مثبت رویہ اپنائیں دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ ذہنی صفائی بھی بہت ضروری ہے اس لیے منفی خیالات کو ذہن سے نکال دیں اچھے دوست بنائیں زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد ہونا بہت ضروری ہے  تاکہ ہر دن آپ اس کی تکمیل کے لیے کوشاں رہیں اور بیکار میں وقت ضائع نہ کریں 🖋️سدرہ اشفاق  #sbatalks

رب ‏کی ‏اطاعت

Image
دنیا کی پیروی چھوڑ کر رب کی اطاعت میں آجائیں رب نے جو کہا ہے اس پر عمل کرنا شروع کردیں کبھی نقصان نہیں اٹھائیں گے دنیا میں دوست تلاش کرنے سے پہلے رب سے دوستی کر لیں جو کبھی کسی حال میں ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا ہماری ہر بات سنتا ہے 🖋️ سدرہ اشفاق

رب ‏کے ‏سامنے ‏جھک ‏جاؤ

Image
زندگی مسلسل سفر کا نام ہے ایک سفر ختم ہوتا تو دوسرے کا آغاز ہو جاتا ہے کبھی سفر سکون اور اطمینان سے سر شار ہوتا ہے تو کبھی خوف اور ڈر سے بھرا ہوا  کبھی خوشیوں اور راحتوں سے دامن بھر جاتا ہے تو کبھی تکلیفیں اور پریشانیاں گھیر لیتی ہیں زندگی تو اسی طرح اپنا رخ بدلتی رہتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کب کیا ردعمل دیا  دکھ ، تکلیف ، پریشانی ، ڈر اور خوف کے وقت واویلا کیا یا صبر کرتے ہوتے رب کے سامنے جھک گئے خوشی ، راحت ، آسانی ، سکون اور اطمینان میں کھو کر رب کو بھول بیٹھے یا شکر ادا کرتے ہوتے رب سے جڑے رہے  🖋️ سدرہ اشفاق

ماں ‏کے ‏نام

Image
اکثر بچے آج ماں سے بہت برے انداز میں بات کرتے ہیں جب سمجھایا جائے تو کہتے ہیں ماما تو سمجھتی ہی نہیں ہمیں  تو کیا ایسا ہو سکتا جس ماں نے آپ کو اپنے پیٹ میں اتنی تکلیف میں جنم دیا وہی آپ کو نہ سمجھے یہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے انداز کے مطابق نہ سمجھ پا رہی ہوں آج کے نت نئے رجحانات کے مطابق نہ سمجھے  لیکن کیا ضروری ہے ان سے بدتمیزی کی جائے غصے سے جواب دیا ہے آرام سے تمیز سے اچھے لہجے میں بھی تو بات کی جا سکتی ہے نہ؟ اپنی بات سمجھائی جا سکتی ہے دوستوں کی خاطر ، دوسروں کو اپنا آپ بہتر بتانے کی خاطر کیوں ماں کا دل دکھا رہے ہمیں یہ نہیں پسند وہ نہیں پسند  اتنے نخرے ، اتنا چڑچڑاپن آخر کس لیے؟ ایک دفعہ ایک صحابی نے رسول ﷺ سے پوچھا مجھ پر کس کا حق سب سے زیادہ ہے؟ جانتے ہیں آپ ﷺ نے کیا جواب دیا تمہاری ماں کا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ تین دفعہ یہ کہا ماں کا حق سب سے زیادہ ہے کیوں ہم ماں کو یہ حق دینا بھول گئے ہیں؟ یاد رکھیں دنیا کی زندگی جنت بنانے کی خاطر اصل جنت مت گنوا دے کیونکہ دنیا تو کبھی جنت نہیں بن پائے گی مگر ماں کا دل دکھایا تو اصل جنت سے محروم ضرور ہو جائیں گے 🖋️ سدرہ اشفاق ...

شکوہ ‏یا شکر

Image
زندگی، خوشی اور غم کا امتزاج ہے  خوشی کا وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے  اور غم کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خوشی کبھی ملی ہی نہیں  جیسے لمبے عرصے سے بس غم ہی غم میں مبتلا ہیں کیا ہم اپنی چاہت کے مطابق خوشی اور غم کو بدل سکتے ہیں؟  بلکل نہیں تو پھر کیوں نہ ہو غم کے وقت بھی وہی رویہ اپنائے جو خوشی کے وقت اپناتے ہیں  کیونکہ ان کو دینے والا تو ایک ہے شکوہ کرنے سے بھی غم کو خوشی میں نہیں بدل سکتا لیکن شکر کریں گے تو رب راضی ہو گا 🖋️ سدرہ اشفاق

ایک ‏مکالمہ

Image
اتفاق سے دو عورتوں کو بات کرتے سنا جو غالباً کسی کے لیے بہت فکرمند ہو رہی تھیں  میں نے ان سے پوچھا کس کے لیے اتنی پریشان ہیں تو ایک عورٹ جھٹ سے بولی کیا بتاؤ بیٹا ہمارے پڑوس میں ایک بیچاری لڑکی کی شادی نہیں ہو رہی عمر بھی بڑھتی جا رہی ہے مجھے تو بہت پریشانی ہوتی ہے کہ اسکا کیا بنے گا کوئی اس کا نام لینے والا نہیں ہو گا ہائے بیچاری میں نے سوال کیا زندگی میں شادی کرنا بہت ضروری ہے؟  دوسری عورت بولی لو بھلا شادی کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے نہ زندگی کا کوئی مزا نہ رونق لڑکیوں کی شادیاں صحیح وقت پہ کر دینی چاہیے مجھے ان کی اس سوچ پہ بہت حیرانی ہوئی اور پوچھا یہ صحیح وقت کیا ہوتا ہے؟ کیا اس کا تعین ہم کرتے ہیں کہ کب کونسا کام ہو؟ یہ تو اللہ کا تعین کیا ہوا ہے کب کس شادی ہونی ہے اور ہونی بھی ہے یا نہیں ہم صرف کوشش کر سکتے باقی تو اللہ کے ہاتھ میں تو پھر کیوں ہم اپنی ایسی باتوں سے دوسروں کو تکلیف دیں کیوں نہ اس کے الٹ ہم ان کو زندگی میں کچھ مثبت کرنے کی ترغیب دیں دونوں عورتوں نے جواب میں جو کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ توبہ توبہ لڑکیوں کو اتنا پڑھانا نہیں چاہیے ورنہ وہ باغی ہو جاتی ہیں عام...

مقصد تخلیق

Image
انسان اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے اس دنیا سے جاتا ہے  تو انسانی ذہن میں سوال آتا ہے کہ اللہ نے ہمیں کیوں تخلیق کیا؟ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ کیا ہے تمہارا مقصد  سورۃ الذاريات آیت 56 میں اسکا جواب ملتا ہے  "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں " کیا ہے یہ عبادت؟ وہی جو ہم کرتے ہیں روزانہ یا بندگی کی اصل شکل تو کچھ اور ہے؟ اگر ہم عبادت کر رہے یں اور اس کے ساتھ غلط کاموں سے نہیں رک رہے تو کیا بندگی کا حق ادا کر رہے ہیں؟ مقصد تخلیق کو پورا کر رہے ہیں؟ بندگی تو یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو پہچان لے رب کی معرفت حاصل کرلے  یہی تو ہے ہماری تخلیق کا مقصد رب کی پہچان حاصل کرنا کہ اللہ ہر وقت میرے ساتھ ہے اللہ سے ایسا تعلق جو ہمارے ہر عمل میں نظر آئے  ہر وقت ہمیں احساس ہو کہ اس تعلق کو غلط کام کرکے کمزور نہیں کرنا بلکہ اس  کو مضبوط بنانا ہے مکمل طور پر بندگی کو اختیار کرنا ہے 🖋️ سدرہ اشفاق