ماں ‏کے ‏نام

اکثر بچے آج ماں سے بہت برے انداز میں بات کرتے ہیں جب سمجھایا جائے تو کہتے ہیں ماما تو سمجھتی ہی نہیں ہمیں 

تو کیا ایسا ہو سکتا جس ماں نے آپ کو اپنے پیٹ میں اتنی تکلیف میں جنم دیا وہی آپ کو نہ سمجھے

یہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے انداز کے مطابق نہ سمجھ پا رہی ہوں آج کے نت نئے رجحانات کے مطابق نہ سمجھے 

لیکن کیا ضروری ہے ان سے بدتمیزی کی جائے غصے سے جواب دیا ہے آرام سے تمیز سے اچھے لہجے میں بھی تو بات کی جا سکتی ہے نہ؟ اپنی بات سمجھائی جا سکتی ہے

دوستوں کی خاطر ، دوسروں کو اپنا آپ بہتر بتانے کی خاطر کیوں ماں کا دل دکھا رہے ہمیں یہ نہیں پسند وہ نہیں پسند 

اتنے نخرے ، اتنا چڑچڑاپن آخر کس لیے؟

ایک دفعہ ایک صحابی نے رسول ﷺ سے پوچھا مجھ پر کس کا حق سب سے زیادہ ہے؟

جانتے ہیں آپ ﷺ نے کیا جواب دیا تمہاری ماں کا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ تین دفعہ یہ کہا ماں کا حق سب سے زیادہ ہے

کیوں ہم ماں کو یہ حق دینا بھول گئے ہیں؟

یاد رکھیں دنیا کی زندگی جنت بنانے کی خاطر اصل جنت مت گنوا دے کیونکہ دنیا تو کبھی جنت نہیں بن پائے گی مگر ماں کا دل دکھایا تو اصل جنت سے محروم ضرور ہو جائیں گے

🖋️ سدرہ اشفاق

Comments

Popular posts from this blog

جہاں پرواہ نہیں اس راہ کی چاہ کبھی مت کریں

نفرت نہیں محبت کیجیے

صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا ضروری ہوتا ہے