ایک مکالمہ
اتفاق سے دو عورتوں کو بات کرتے سنا جو غالباً کسی کے لیے بہت فکرمند ہو رہی تھیں
میں نے ان سے پوچھا کس کے لیے اتنی پریشان ہیں تو ایک عورٹ جھٹ سے بولی کیا بتاؤ بیٹا ہمارے پڑوس میں ایک بیچاری لڑکی کی شادی نہیں ہو رہی عمر بھی بڑھتی جا رہی ہے مجھے تو بہت پریشانی ہوتی ہے کہ اسکا کیا بنے گا کوئی اس کا نام لینے والا نہیں ہو گا ہائے بیچاری
میں نے سوال کیا زندگی میں شادی کرنا بہت ضروری ہے؟
دوسری عورت بولی لو بھلا شادی کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے نہ زندگی کا کوئی مزا نہ رونق لڑکیوں کی شادیاں صحیح وقت پہ کر دینی چاہیے
مجھے ان کی اس سوچ پہ بہت حیرانی ہوئی اور پوچھا یہ صحیح وقت کیا ہوتا ہے؟ کیا اس کا تعین ہم کرتے ہیں کہ کب کونسا کام ہو؟ یہ تو اللہ کا تعین کیا ہوا ہے کب کس شادی ہونی ہے اور ہونی بھی ہے یا نہیں ہم صرف کوشش کر سکتے باقی تو اللہ کے ہاتھ میں تو پھر کیوں ہم اپنی ایسی باتوں سے دوسروں کو تکلیف دیں کیوں نہ اس کے الٹ ہم ان کو زندگی میں کچھ مثبت کرنے کی ترغیب دیں
دونوں عورتوں نے جواب میں جو کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ توبہ توبہ لڑکیوں کو اتنا پڑھانا نہیں چاہیے ورنہ وہ باغی ہو جاتی ہیں عام زبان میں ان کی سوچ میرے جیسے ہو جاتی ہے
اس جواب کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ کوئی اور بات نہ کی جاتی لیکن انہیں کے جواب نے ہمت دی کہ جب برا کہہ ہی دیا تو تھوڑا مزید برا بننے میں کیا حرج ہے؟
تو بہت پیار سے کہا کہ اگر ایک عورت کے بچے نہ ہوتو؟ کیا کرئے گی بچوں کے بغیر؟ کوئی نام لینے والا نہیں ہو گا؟ وہ تو بہت ہی بیچاری ہوئی؟
دونوں عورتیں بولی اب تم نے عقلمندی کی بات کی ہے
یہی وقت تھا ان کو عقلمند جواب دینے کا۔۔۔۔ تو کہا
کہ کبھی بھی ایک چیز کا نہ ہونا دوسری چیز کی قدر کم نہیں کرتا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی تو اولاد نہیں تھی تو کیا انہوں نے زندگی بس اسی غم میں گزار دی یا ان کے اردگرد والوں نے وہ سب کہا جو آج ہم کسی کو بنا سوچے سمجھے کہتے ہیں ایسی عورت جس کی گواہی اللہ نے قرآن میں دی احادیث کھولیں تو ان کا ذکر کتنے ہی صحابہ نے ان سے علم سیکھا انہوں نے تو کبھی خود یا دوسروں نے انکو بیچاری نہیں بولا کیا کوئی انکا نام لینے والا نہیں علم کی راہ میں ان کی خدمات کو ہمیشہ سراہا جائے گا اور اسلام ہمیں یہی سیکھاتا ہے کہ دوسروں کو مثبت سوچ دینے والوں بنو مت یہ کہو تمہیں یہ ملا وہ نہیں ملا کیا ہو گا تمہارا؟
یاد رکھیں شادی ہونا یا اولاد کا مل جانا زندگی کا ایک حصہ ہے زندگی کا مقصد نہیں ہے زندگی کا مقصد ان سب سے کہیں اوپر ہے
اس مقصد کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے الفاظ سے دوسروں کو تکلیف نہ دیں اپنی باتوں سے انکو منفی سوچوں کی بھٹی میں نہ جھونک دیں بلکہ انکو ہمت دلاتے ہوئے ایسی شمع بنائیں کہ جو سب کی زندگیوں کو روشن کر دے
🖋️ سدرہ اشفاق
Comments
Post a Comment