مقصد تخلیق

انسان اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے اس دنیا سے جاتا ہے 

تو انسانی ذہن میں سوال آتا ہے کہ اللہ نے ہمیں کیوں تخلیق کیا؟

قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ کیا ہے تمہارا مقصد

 سورۃ الذاريات آیت 56 میں اسکا جواب ملتا ہے 

"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں "

کیا ہے یہ عبادت؟ وہی جو ہم کرتے ہیں روزانہ یا بندگی کی اصل شکل تو کچھ اور ہے؟

اگر ہم عبادت کر رہے یں اور اس کے ساتھ غلط کاموں سے نہیں رک رہے تو کیا بندگی کا حق ادا کر رہے ہیں؟ مقصد تخلیق کو پورا کر رہے ہیں؟

بندگی تو یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو پہچان لے رب کی معرفت حاصل کرلے 

یہی تو ہے ہماری تخلیق کا مقصد رب کی پہچان حاصل کرنا کہ اللہ ہر وقت میرے ساتھ ہے اللہ سے ایسا تعلق جو ہمارے ہر عمل میں نظر آئے 

ہر وقت ہمیں احساس ہو کہ اس تعلق کو غلط کام کرکے کمزور نہیں کرنا بلکہ اس  کو مضبوط بنانا ہے مکمل طور پر بندگی کو اختیار کرنا ہے

🖋️ سدرہ اشفاق

Comments

Popular posts from this blog

جہاں پرواہ نہیں اس راہ کی چاہ کبھی مت کریں

نفرت نہیں محبت کیجیے

صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا ضروری ہوتا ہے