اللہ پر بھروسہ
ہم سب زندگی میں کبھی نہ کبھی ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوتے جہاں دنیا کا ہر دروازہ بند نظر آتا ہے
بظاہر کوئی سبب نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے ناامید ہونے لگتے ہیں کہ ہمارے حالات نہیں بدل سکتے
اس وقت ہماری نظر دنیا کے ظاہری اسباب پہ ہوتی ہے کہ وہ نہیں تو شاید کچھ نہیں
جبکہ اسباب پیدا کرنے والا تو اللہ ہے وہ جب چاہے ایسے اسباب بنا دیں کہ ہر انسان حیران رہ جائے
یاد کریں حضرت مریم علیہا السلام کا قصہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے کیا وہ ہم سب کے لیے امید کی نئی راہیں نہیں کھول دیتا کہ اللہ نے ان کے لیے کیسے کیسے اسباب بنائے
جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس رزق آتا تھا حضرت زکریا علیہ السلام نے پوچھا اے مریم یہ رزق کہا سے آتا ہے اور انکا جواب سن کر دعا کی کہ اللہ ان کو بھی اولاد سے نواز دے
یہ نہیں سوچا کہ کیسے ممکن بس نظر میں یہ تھا جو رب مریم کو ایسے رزق دے رہا ہے مجھے بھی اولاد دینے پہ قادر ہے
قرآن ہمیں بتا رہا ہے کہ اے انسان ناامید نہ ہو کسی بھی کام کو بظاہر دنیاوی اسباب نہ ہونے کی وجہ سے نامکمن مت کہو
رب تو ہمارا بھی وہی ہے جو مریم علیہا السلام کا اور حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا لیکن فرق یہ ہے انہوں نے رب کا بن کے سب پا لیا اور ہم نے دنیا میں کھو کر اپنا آپ بھی گنوا دیا
🖋️ سدرہ اشفاق
Comments
Post a Comment