غصہ

غصہ آنا فطری عمل ہے لیکن اُس وقت طریقہ کیا ہونا چاہیے یہ ہمارے ہاتھ میں ہے جب کوئی غلط بات کہے جس سے اس پر غصہ آئے تو کچھ وقت کے لیے اسکا جواب نہ دیں رک جائیں اور سوچیں اس کا جواب میں کل دونگی ایسا کرنے سے ہم لمبی بحث اور جھگڑے سے بچ جاتے ہیں 

کیونکہ غصہ ہماری عقل کو ڈھانپ لیتا ہے ، سوچ سمجھ کی صلاحیت کم کر دیتا ہے اور جذبات میں ہم کچھ بھی الٹا سیدھا بول جاتے ہیں جس کا بعد میں لمبے عرصے تک پچھتاوا رہتا ہے

اسی طرح جب دوسرے غصے میں ہوں تو بھی خاموش ہو جائیں اور جب وہ غصے کی کیفیت سے باہر آ جائیں تب اپنی بات سمجھائیں تب زیادہ محنت کیے بنا ہی بات سمجھ میں آ جاتی ہے

🖋️ سدرہ اشفاق

Comments

Popular posts from this blog

جہاں پرواہ نہیں اس راہ کی چاہ کبھی مت کریں

صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینا ضروری ہوتا ہے

عارضی سہاروں میں مستقل پناہ تلاش مت کریں