ماضی ‏کو ‏دیکھ ‏کر ‏حال ‏کو ‏مت ‏جانچیں

کسی کو کیا خبر کہ جو ماضی میں غلط تھا حال میں صحیح ہو 

یا مستقبل میں کب صیحح راستے پہ آ جائے 

اس کا فیصلہ تو موت کے ساتھ ہوتا ہے کون کامیاب ہوا اور کون ناکام

لیکن آج بہت سے لوگ دوسروں کے بارے میں یہ فیصلہ کرتے ہوئے تھوڑا سا بھی نہیں ہچکچاتے 

بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں

کسی کو جنتی تو کسی کو جہنمی 

 ماضی کی غلطیوں پہ مذاق بناتے ہیں

اگر کوئی صیحح راستے پہ آنے کی کوشش کرے تو پہلا جملہ یہی سننے کو ملتا

"نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی" 

 چلیں نو سو چوہے کھا کے ہی سہی مگر زندگی میں خیال تو آیا، کوشش تو کی صیحح راہ کو اپنانے کی

کچھ لوگوں کو تو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ساری زندگی گناہوں میں ہی گزار دیتے ہیں

جب بھی کوئی ماضی کی غلطیوں کو چھوڑ کر حال اور مستقبل کو سنوارنے کی کوشش میں ہو 

تو اس کو کمزور مت کیجئے کیونکہ یہ سفر بہت مشکل ہے ہر وقت خود سے جنگ کرنی پڑتی ہے 

نہ ہی ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں کہ کوئی صحیح راہ کو چھوڑ کر واپس پلٹ جائے

🖋️ سدرہ اشفاق

Comments