اسلام کی ‏حقیقت

حضرت سفیان بن عبداللہ  سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیں کہ آپؐ کے سوا کسی اور سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے۔‘‘ (یعنی مجھے اسلام کی حقیقت ایک جملے میں بتا دیجیے تا کہ میں اسے گرہ میں باندھ لوں۔ ) جواب میں آپ نے فرمایا: 

قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ
’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جاؤ!‘‘ 

ایمان لانا آسان ہے مگر اس پر جمے رہنا آسان نہیں ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کو اللہ پر پوری طرح توکل ّہو، وہ ہر حالت میں اس کی رضا پر راضی رہے۔ نہ اپنی کسی حالت کے بارے میں اس کی زبان پر حرفِ شکایت آئے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے پر اس کے دل میں ملال پیدا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے آگے اس کا سر تسلیم بلا حیل و حجت جھکتا چلا جائے اور اس کے درِ اطاعت پر ہمہ وقت کمر بستہ کھڑے رہ کرعملی طور پر ثابت کر دے کہ 

اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 
’’یقینا میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘ (الانعام)

Comments

Popular posts from this blog

Actions speak louder than words

سوچ کا انداز بدلیے

جہاں پرواہ نہیں اس راہ کی چاہ کبھی مت کریں