Posts

زبان ‏سے ‏اچھے ‏الفاظ ‏ادا ‏کیجئے

Image
انسان زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ کو سمجھتے ہیں دل میں کیا یے اس کو نہیں جان سکتے اس لیے زبان سے کرواہٹ بھرے جملے ادا کر کے دوسروں کا دل دکھا کر یہ مت کہیں کہ ہم دل کے تو بہت اچھے ہیں مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان سے دوسرے محفوظ رہیں لہٰذا بہترین مسلمان بننے کے لئے اپنی زبان پر کنٹرول اور دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ 🖋️ سدرہ اشفاق

علم ‏کی ‏تکمیل

Image
استاد بننے سے پہلے خود کو ایک بہترین انسان بنائیے کیونکہ سوال یہ نہیں ہو گا کہ کتنا علم تھا اور وہ کتنے لوگوں کو پڑھایا لیکن یہ سوال ضرور ہو گا کہ جو علم تھا اس پر عمل کتنا کیا 🖋️ سدرہ اشفاق

اللہ ‏پر ‏توکل

Image
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ یہ وہ کلمہ ہے جو ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اس وقت کہا تھا جب انہيں آگ میں ڈالا جارہا تھا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کہا جب ان سے کہا گیا کہ: ﴿اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا ڰ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ (آل عمران: 173) (بے شک لوگوں نے تمہارے لیے (فوج) جمع کرلی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور زیادہ کردیا ،اور انہوں نے کہا ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی خوب کار ساز ہے) شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی تعالی نے ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اس کلمے کی برکت سے مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا کہ: تو ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر  (الانبیاء: 69)۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت فرمائی اور اس عظیم کلمے کی برکت سے فرمایا: تو وہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے،انہیں کسی برائی نے چھوا تک نہيں (آل عمران: 174)۔ صحیح بخاری 4563 ہمیں بھی چاہیے اس سے استفادہ حاصل کرے: ...

امید

Image
انسان کبھی کبھار وقت اور حالات کی وجہ سے تھک بھی جاتا ہے لیکن ہار نہیں مان سکتا کبھی نا امید نہیں ہو سکتا  تو زندگی میں جب بھی تھکن محسوس ہو تو تھوڑا آرام کر لیں خود کے ساتھ وقت گزاریں اپنے اردگرد موجود چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کریں اس سے تروتازگی کا احساس ہو گا اور تھکن بھی دور ہو جائے گا 🖋️ سدرہ اشفاق

آزمائش اور بھروسہ

Image
بعض اوقات اللہ پاک آپ کو ایسے لوگوں سے ملواتا ہے جنہیں آپ اپنا ہمدرد یا خیر خواہ سمجھ بیٹھتے ہیں دراصل جب وہی لوگ آپ کے انتہائی مخلص ہونے کے باوجود آپکو دکھ کی اس آگ میں جلتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں جسے بجھانے میں آپ زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہو جاتے ہیں وہ وقت بڑا کٹھن ہوتا ہے جب آپ اکیلے اُن لمحات کو جھیل رہے ہوتے ہیں نہ کسی سے کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی چیخ چیخ کر رو سکتے ہیں وہ درد کی کیفیت ایسی ہوتی ہے جو شاید زندگی میں ہی موت کا مزہ چکھا جاتی ہے بس وہی وقت ہوتا ہے جب اللہ اور آپ کا تعلق مضبوط ہو جاتا ہے اللہ آپ کو دیکھتا ہے آزماتا ہے کہ میرے بندے کو مجھ پر کتنا بھروسہ ہے جب ایک انسان پر ہم بھروسے کے پُل قائم کر سکتے ہیں اور ایک عرصہ اس انسان پر اندھا بھروسہ کرتے ہیں اسکی خامیوں کو نظرانداز کر کے اسکا ساتھ نبھاتے ہیں تو اللہ تو ہمارا پالنے والا ہے اس پر بھروسہ کرنے میں کیوں ہچکچاتے ہیں وہی تو ہے جو درد کی دوا دے سکتا ہے وہی تو ہے جو سارے غم مٹا سکتا ہے ہمارا درد اس رب کی طاقت کے آگے اس کے فضل کے آگے زرہ برابر بھی نہیں ہم اور ہماری اوقات مٹی کے سوا کچھ نہیں.....

رشتوں کی اساس

Image
خون کے رشتے ایسے رشتے ہیں جن میں اللہ نے کشش رکھ ہے..... ان میں ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا..... نہ ہی ہم اپنی مرضی سے ردو بدل کر سکتے ہیں..... صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ رشتوں کو جوڑ کے رکھے..... وہ حقوق جو اللہ نے مقرر کر دئیے ہیں انہیں ادا کرے..... رشتے جوڑ کے رکھنا انہیں سنبھالنا ہی تو مشکل کام ہے... جبکہ رشتے توڑنا اور بکھیرنا تو بہت آسان ہے..... جو انسان رشتے نبھانا سیکھ لے اُس کے لیے دنیا کا کوئی بھی کام مشکل نہیں رہتا..... رشتوں کو جوڑ کے رکھنے کے لیے جو چاہیے وہ ہیں                   "پیار, شفقت اور احساس" اور وہ چیزیں جو رشتوں میں کڑواہٹ گھول دیتی ہے وہ ہیں                      "مطلب,لالچ اور حسد"                      

رشتے

Image
رشتے بھی بہت عجیب ہوتے ہیں..... کبھی تو اپنے ہو کے بھی بہت بیگانےاور کبھی کبھار  بیگانے ہو کے بھی اپنے بن جاتے ہیں..... رشتوں میں تو صرف احساس کی ضرورت ہوتی ہے..... جو رشتوں کو پیار سے سینچ کے تناور درخت بنا دیتا ہے..... جسے کوئی بھی اندھی طوفان اکھاڑ نہیں سکتے..... جبکہ دوسری جو رشتے محض مطلب کے لئے جڑے ہوتے ہیں..... وہ ایک دن اپنی موت خود ہی مر جاتے ہیں..... پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کے رشتے خون کے تھے یا دل کے.....