اللہ پر توکل
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“
یہ وہ کلمہ ہے جو ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اس وقت کہا تھا جب انہيں آگ میں ڈالا جارہا تھا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کہا جب ان سے کہا گیا کہ:
﴿اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا ڰ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ (آل عمران: 173)
(بے شک لوگوں نے تمہارے لیے (فوج) جمع کرلی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور زیادہ کردیا ،اور انہوں نے کہا ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی خوب کار ساز ہے)
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی تعالی نے ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اس کلمے کی برکت سے مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا کہ: تو ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر (الانبیاء: 69)۔
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت فرمائی اور اس عظیم کلمے کی برکت سے فرمایا: تو وہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے،انہیں کسی برائی نے چھوا تک نہيں (آل عمران: 174)۔
صحیح بخاری 4563
ہمیں بھی چاہیے اس سے استفادہ حاصل کرے:
1- اس کلمے کو کرب و مشکلات کے وقت پڑھا جائے۔
2- بے شک اللہ پر توکل دنیا و آخرت میں خیر کو پانے اور شر کو دور کرنے کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے۔
3- بلاشبہ ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment